Posts

Showing posts from January, 2021

Race between Dog and Lion

 ‏ایک شخص جو کتوں کی دوڑ کے مقابلے کا انعقاد کرواتا تھا۔ایک دفعہ اس نے مقابلے میں ایک چیتے کو شامل کیا۔۔لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔چیتا خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ ‏جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی۔۔مالک نے دلچسپ جواب دیا:کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہین ہوتی ہے۔ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے۔ ‏‎‎کتوں کے ساتھ کتے دوڑتے ہیں شیر اور چیتے نہیں .

ISLAMI WAQIAT

 بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنا تھی... انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور قرآن کی حافظہ ہے... وہ اپنے گھر کی کھڑکی میں رات کو ایک شمع روشن کر دے... اس رات پورے شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں... ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا... اگلے دن اعلان کروایا کہ جس گھر میں موجود لڑکی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہے... وہ رات کو اپنے گھر کی کھڑکی میں شمع روشن کرے... اور اس رات بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں پہ شمعیں روشن تھیں... کتنا حسین منظر ہو گا نا... ہر گھر میں کھڑکی پہ روشن شمع صرف روشنی کی نوید نہیں سنا رہی تھیں بلکہ بتا رہی تھیں کہ اسلام کا مستقبل بھی بہت روشن ہے... وہ شمعیں اس بات کی نوید تھیں کہ ایک بہترین نسل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب اور بہترین تعلیم دی جا چکی ہے... ان تمام جلنے والی روشنیوں کے لرزتے شعلوں میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی جھلک نمایاں ہو رہی تھی... آج اگر ایسا اعلان کر دیا جائے تو بہت کم گھروں میں شمع روشن ہو گی اور اگر دوسرے اعلان والی شرط ساتھ رکھ دی جائے تو یقینا پورا شہر ہی تاریک ...

Dhobi ka kutta ghr ka na ghat ka

دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا" "dog" ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی یہی  جاتا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔  ‏یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔ ‏"وضاحت" اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتا بن گیا۔ پرانے وقتوں میں کپڑے گھاٹ پر دھوئے جاتے تھے اور کپڑوں کو صاف کرنے کیلئے دھوبی اک بھاری بھرکم ڈنڈے کا استعمال کیا کرتا تھا، جس کو کتکہ کہا جاتا تھا۔ وہ کتکہ گھاٹ پر نہیں رکھا جاتا تھا کیوں کہ کوئی اور اٹھا لے گا اور گھر لانے میں بے جا مشقت کرنی پڑتی ۔ اسلئے دھوبی وہ کتکہ راستے میں مناسب جگہ چھپا دیتا اور اگلے دن نکال کر پھر استعمال کر لیتا۔ اس طرح کتکہ نہ گھر جا پاتا اور نہ گھاٹ پر رات گزارتا۔ دھوبی کا کتکہ ۔ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ جو نئے دور میں بگڑ کر کتا بن گیا-